مرگلہ ایونیو توسیعی منصوبہ 35 فیصد مکمل، وزیر داخلہ کا جلد تکمیل کا دعویٰ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو سنجانی کے قریب دیر رات معائنے کے بعد کہا کہ این-5 سے ایم-1 تک رابطہ اور سنجانی انٹرچینج اپریل کی ڈیڈ لائن سے پہلے چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔

اسلام آباد: مرگلہ ایونیو کی این-5 سے ایم-1 تک توسیع اور سنجانی انٹرچینج کی تعمیر 35 فیصد مکمل ہو چکی ہے اور کام چوبیس گھنٹے جاری ہے، کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اتوار کو بتایا۔
سی ڈی اے کے چیئرمین اور اسلام آباد کے چیف کمشنر سہیل اشرف نے منصوبے کا دورہ کیا اور تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے خبر دی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ کام میں رکاوٹ بننے والے مسائل دور کیے جائیں تاکہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے۔
منصوبے میں مرگلہ ایونیو کو این-5 سے ایم-1 تک بڑھانا اور سنجانی میں نیا انٹرچینج بنانا شامل ہے، جو دارالحکومت اور موٹروے نیٹ ورک کے درمیان راستے پر واقع ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے تکمیل کی اس سے قریب تر تاریخ بتائی۔ ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے جمعرات کو سنجانی کے قریب دیر رات معائنہ کرنے کے بعد کہا کہ منصوبہ اپنی سرکاری اپریل ڈیڈ لائن سے پہلے، اگلے چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نیا انٹرچینج ٹریفک کی روانی بہتر بنائے گا اور خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے مسافروں کے ساتھ اسلام آباد بین الاقوامی ایئرپورٹ جانے والوں کو بھی آسان رسائی دے گا۔ ٹیک جوس کے مطابق دورے میں سی ڈی اے کے چیئرمین، اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس اور سینئر ٹیکنیکل افسران ان کے ہمراہ تھے۔
مقام پر مجوزہ انٹرچینج برج پر پائلنگ، بنیاد کی کھدائی اور ریٹیننگ و ایبیٹمنٹ دیواریں شامل ہیں۔ ٹیمیں ارتھ ورک، روڈ سب بیس کی تیاری، یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی اور زمینی و تکنیکی مسائل سے متاثر تعمیراتی مقامات کی صفائی بھی کر رہی ہیں۔
ٹیک جوس کے مطابق منصوبے کا مقصد اسلام آباد اور موٹروے نیٹ ورک کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور مسافروں کا سفر آسان کرنا ہے۔
دی نیوز نے لکھا کہ مرگلہ ایونیو اور موٹروے کا رابطہ چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔ پروپاکستانی اور بلوم پاکستان نے بھی کہا کہ توسیعی منصوبہ اپریل کی ڈیڈ لائن سے پہلے چند ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان تینوں رپورٹس میں کام کی تکمیل کا فیصد نہیں بتایا گیا۔
رپورٹوں میں فرق
اے پی پی نے سی ڈی اے کے بیان سے خبر شروع کی، 35 فیصد تکمیل کا ہندسہ دیا اور سی ڈی اے چیئرمین و اسلام آباد چیف کمشنر سہیل اشرف کے دورے کی خبر دی جنہوں نے رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی۔ ٹیک جوس نے تنہا یہ بات وزیر داخلہ محسن نقوی سے منسوب کی کہ منصوبہ چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا، جمعرات کو سنجانی کے قریب دیر رات معائنے کا ذکر کیا اور پائلنگ، ریٹیننگ دیواروں اور یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی سمیت جاری کاموں کی تفصیل بھی صرف اسی رپورٹ میں تھی۔ دی نیوز، پروپاکستانی اور بلوم پاکستان نے صرف یہ لکھا کہ رابطہ اپریل کی ڈیڈ لائن سے پہلے چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا، اور کسی نے تکمیل کا فیصد نہیں بتایا۔

شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح کر دیا
ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ وزیراعظم کے مطابق 27 دن میں مکمل ہوا، جس کے ساتھ تقریباً 4 کلومیٹر سڑکیں اور 6 ہزار 340 درخت بھی شامل ہیں۔

سی ڈی اے: پلاٹ فائل کی تصدیق اب ڈی جی لینڈ اینڈ اسٹیٹ کی اجازت سے
ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو نے افسران کو ٹھوس وجوہات کے بغیر فائل کی اصلیت جانچنے سے روکا اور ہر ڈیسک پر فائل تین دن سے زیادہ رکھنے پر پابندی لگا دی۔

حکومت کا ون کنسٹیٹیوشن ایونیو کو فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کا اعلان
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے منصوبے میں بے ضابطگیاں رپورٹ کی ہیں۔

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر حکومت کا قبضہ، فائیو اسٹار ہوٹل بنے گا
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ متاثرین کو ان کی سرمایہ کاری کے مطابق رقم دی جائے گی اور جائیداد کی مالیت کا تخمینہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی سے لگوایا جائے گا۔

ایس ای سی پی نے بینکوں سے آئی پی او تحقیقات کا ریکارڈ طلب کر لیا
ریگولیٹر نے سات بینکوں سے کمپنی کی برآمدات کا ریکارڈ اور 30 بینکوں سے اسپانسرز اور ڈائریکٹرز کے اکاؤنٹس میں ترسیلات زر کی معلومات مانگی ہیں۔

اسلام آباد کے چار پیٹرول پمپس کے خلاف مشکوک ڈیوائسز پر مقدمات
43 پیٹرول پمپس کی انسپکشن میں 14 پمپس کی 42 نوزلز میں ردوبدل کی تصدیق ہوئی، تمام نوزلز موقع پر سیل کر دی گئیں اور چار پمپس کے این او سی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بشریٰ بی بی کی بینائی شدید متاثر، سلمان صفدر کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان حلفی
190 ملین پاؤنڈ کیس میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کے مطابق بشریٰ بی بی روشنی برداشت نہیں کر سکتیں اور 15 نومبر کے قریب ان کی آنکھوں کا ایک اور آپریشن متوقع ہے۔

بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنے منتخب ڈاکٹروں سے علاج کی درخواست کی
وکیل کے حلفی بیان کے مطابق اڈیالہ جیل میں انھیں سیاہ عینک کے بغیر آنکھیں کھولنے میں دشواری ہو رہی تھی اور ڈاکٹروں نے مکمل موتیا کی تشخیص کرتے ہوئے 15 نومبر کے قریب آپریشن کی بات کہی۔