مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ایم کیو ایم رہنما کا کے ایم سی کے 7.5 ارب روپے پر تحقیقات کا مطالبہ

طحہٰ احمد خان نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نثار کھوڑو کو لکھے گئے خط میں کے ایم سی کی اسکیموں اور ٹینڈرنگ کی سی ایم آئی ٹی سے انکوائری اور رواں مالی سال کے 15 سے 16 ارب روپے کے ٹینڈرز میں شفافیت کا مطالبہ بھی کیا

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ایم کیو ایم رہنما کا کے ایم سی کے 7.5 ارب روپے پر تحقیقات کا مطالبہ

ایم کیو ایم پاکستان کے ایک رہنما نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی 188 ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہونے والے تقریباً 7.5 ارب روپے کے استعمال کی تحقیقات کرائی جائیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ مطالبہ پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن طحہٰ احمد خان کے اس خط میں موجود ہے جو انہوں نے کمیٹی کے چیئرمین نثار کھوڑو کو لکھا۔ خبر کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ 7.5 ارب روپے کے استعمال کی تحقیقات کرائی جائیں، رواں مالی سال 15 سے 16 ارب روپے کے ترقیاتی ٹینڈرز میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور کے ایم سی کی ترقیاتی اسکیموں اور ٹینڈرنگ کے عمل کی سی ایم آئی ٹی سے انکوائری کرائی جائے۔

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق طحہٰ احمد خان نے کہا کہ ترقیاتی ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مداخلت کا تعین کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی اسکیموں پر اربوں روپے خرچ ہونے کے دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مخصوص لوگوں کی جیبیں بھری جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے ٹیکس کے پیسے پر بدترین کرپشن ہو رہی ہے، اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کراچی کے شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں اور شہر کے باشندے آج بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں جبکہ کے ایم سی کے ملازمین پنشن سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق کرپشن اور بدانتظامی کے باعث کراچی کے شہریوں کے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی وہ پارلیمانی فورم ہے جو حکومتی اخراجات اور آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیتا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نثار کھوڑو نے خط کا کوئی جواب دیا ہے یا کمیٹی نے اس معاملے کو زیر بحث لایا ہے۔

رپورٹ میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن یا سندھ حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔ اس میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ 7.5 ارب روپے کا یہ عدد کن اسکیموں پر اور کس مدت میں ہونے والے اخراجات کا ہے۔

یہ مطالبہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے ترقیاتی بجٹ پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ خط میں ٹینڈرنگ کے عمل کو بھی جانچنے کی درخواست کی گئی ہے، اس دلیل کے ساتھ کہ مبینہ مداخلت کا پتہ ٹھیکوں کی جانچ سے ہی چل سکتا ہے۔

سیاستسندھ

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم

رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سیاستسندھ

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی

کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

معیشتسندھ

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے

سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سیاستسندھ

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔