مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ایم کیو ایم پاکستان کی انتظامی اکائیوں کی جنگ سڑکوں پر

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق کراچی میں ریلی کے ساتھ عوامی مہم کا آغاز کیا گیا جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے کہا کہ پارٹی اپنی مہم سڑکوں پر لے آئی ہے

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) نے نئی انتظامی اکائیوں کے لیے اپنی مہم پارٹی دفاتر اور پارلیمانی لابنگ سے نکال کر عوامی سطح پر شروع کر دی ہے۔ دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق پارٹی نے کراچی میں ایک ریلی کے ذریعے اس مہم کا آغاز کیا۔

ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے انتظامی اکائیوں کی لڑائی سڑکوں تک پہنچا دی ہے۔ تاہم دونوں ذرائع نے ریلی کے مقام، شرکا کی تعداد یا خطاب کرنے والوں کے ناموں کی تفصیل نہیں بتائی۔

دی نیوز انٹرنیشنل نے کراچی ریلی کو "انتظامی اکائیوں کے لیے مہم" کے آغاز کے طور پر بیان کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے کہا کہ پارٹی نے یہ معاملہ پہلے پارلیمنٹ اور اتحادی حلقوں میں اٹھایا تھا اور اب اسے سڑکوں پر لے آئی ہے۔

نہ تو ایکسپریس ٹریبیون اور نہ ہی دی نیوز انٹرنیشنل نے یہ بتایا کہ ریلی میں کتنے افراد شریک ہوئے، کوئی قرارداد منظور ہوئی یا نہیں، اور رہنماؤں نے اسٹیج سے کیا کہا۔ شرکا کی تعداد، آئندہ اجتماعات کا شیڈول یا پارٹی کا کوئی باقاعدہ بیان فوری طور پر دستیاب نہیں تھا۔

بلوچستان پلس نے ایک الگ تجزیاتی مضمون شائع کیا جس میں سوال اٹھایا گیا کہ پاکستان کو مزید انتظامی اکائیوں پر غور کیوں کرنا چاہیے، لیکن اس میں کراچی ریلی کی کوئی خاص تفصیل شامل نہیں تھی۔

ایم کیو ایم پاکستان طویل عرصے سے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کا مطالبہ کرتی رہی ہے، خاص طور پر سندھ کے شہری اضلاع میں۔ پارٹی کا موقف ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں کراچی اور دیگر شہری مراکز کو وسائل اور نمائندگی میں پورا حصہ نہیں ملتا۔ پارٹی وفاقی حکومت میں اتحادی ہے اور اس نے ماضی میں بھی یہ مطالبہ حکومت کے سامنے رکھا ہے۔

پارٹی کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو سندھ کے شہری علاقوں کے باشندوں کے قریب لائیں گی اور پانی، صفائی اور پولیسنگ جیسی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی، جو ان کے بقول موجودہ نظام میں متاثر ہیں۔

دونوں رپورٹوں میں وفاقی یا صوبائی حکومت کے ردعمل کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ یہ مہم پارلیمنٹ میں نئے صوبوں اور انتظامی حدود پر برسوں سے رکی ہوئی بحث کے بعد سامنے آئی ہے۔ کئی جماعتیں نئی اکائیوں کے حق میں آواز اٹھا چکی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد سیاسی طور پر حساس رہا ہے۔

یہ ایک ترقی پذیر خبر ہے اور مزید معلومات ملنے پر اسے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

سیاستسندھ

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم

رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سیاستسندھ

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی

کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

معیشتسندھ

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے

سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سیاستسندھ

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔