نیب: بحریہ ٹاؤن پر 18 ہزار ایکڑ اراضی کے قبضے کا الزام
ریفرنس میں ملک ریاض، قائم علی شاہ اور شرجیل میمن سمیت 33 افراد نامزد؛ قومی خزانے کو 708 سے 783 ارب روپے تک نقصان کا تخمینہ

قومی احتساب بیورو (نیب) نے الزام لگایا ہے کہ کراچی میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تقریباً 18 ہزار ایکڑ اراضی خلافِ قانون طریقے سے بحریہ ٹاؤن کو منتقل کی گئی، اور اس سلسلے میں 33 افراد کے خلاف ریفرنس کراچی کی احتساب عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ یہ تفصیلات منٹ مرر کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ریفرنس نمبر 01/2025 میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض، ان کے صاحبزادے احمد علی ریاض، وائس چیئرمین زین ملک، سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سابق سینئر وزیر شرجیل میمن کے علاوہ سابق ریونیو افسران، ایم ڈی اے حکام، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹرز اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔
منٹ مرر نے تحقیقات سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ اراضی عوامی فلاح اور سستی رہائش کے لیے مختص تھی، مگر 2013-14 کے دوران لینڈ ایڈجسٹمنٹ، ایکسچینج اور کنسولیڈیشن کے نام پر بحریہ ٹاؤن کو دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو بدلے میں سندھ حکومت کو متبادل اراضی دینی تھی، لیکن بلوچستان کی سرحد کے قریب بنجر، پہاڑی اور ناقابلِ رسائی زمین پیش کی گئی جبکہ ملیر کی قیمتی اراضی پر اس کا قبضہ برقرار رہا۔
رپورٹ میں سروے آف پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے قبضے میں کل 25,601 ایکڑ اراضی ہے، جس میں سے 7,220 ایکڑ فروری 2015 میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر تبدیل کی گئی، جبکہ جامشورو میں درج 1,644 ایکڑ سرکاری زمین قرار دی گئی۔ یہ اعداد و شمار نیب کے مبینہ طور پر نشاندہی کردہ تقریباً 18 ہزار ایکڑ سے مختلف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 4 مئی 2018 کے فیصلے میں یہ زمینی تبادلہ پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا تھا۔ نیب کے تفتیشی افسر نے سپریم کورٹ کو 59 غیر مجاز واٹر بوروں کے بارے میں بھی بتایا جو روزانہ 1.7 ملین گیلن پانی نکالتے ہیں، جبکہ ایم ڈی اے کے واجبات 5.5 ارب روپے بتائے گئے۔
نقصان کے تخمینے مختلف ہیں۔ منٹ مرر کے مطابق ایک اندازے میں قومی خزانے کو 708.08 ارب روپے اور دوسرے میں تقریباً 783 ارب روپے کا نقصان قرار دیا گیا۔ دونوں اعداد ذرائع سے منسوب ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
منٹ مرر کے مطابق ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے کو مفرور قرار دیا جا چکا ہے، ان کے خلاف مستقل وارنٹِ گرفت جاری ہیں اور اپریل 2026 میں انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کیے گئے۔ نیب نے جنوری 2025 میں 457 جائیدادیں منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا، جن میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جائیدادیں اور کراچی میں ایک پرتعیش رہائش گاہ شامل تھی۔
بیورو کا موقف ہے کہ ملزمان کو پاکستان واپس آ کر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔ یہ کیس 2019 میں سپریم کورٹ کے منظور کردہ 460 ارب روپے کے تصفیے سے الگ ہے، جو 16,896 ایکڑ اراضی پر تھا اور جس کی مکمل ادائیگی بحریہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر نہیں کی۔ پاکستان آبزرور نے ایک صحافی کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی شائع کیا کہ بحریہ ٹاؤن کی خفیہ فائلیں، جن میں وزرا، صحافیوں اور سابق فوجیوں کے نام ہیں، نیب تک پہنچ گئی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔