ایس ای سی پی نے پونزئی اور پیرامڈ اسکیموں پر پابندی کے ضوابط جاری کر دیے
کمپنیز (پروہیبیشن آف اَن لاء فل ایکٹیویٹیز) ریگولیشنز 2026 ویب سائٹس، موبائل ایپس اور سوشل میڈیا پر لاگو ہوں گے اور خلاف ورزی پر کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 512(2) کے تحت کارروائی ہو سکے گی۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کمپنیز (پروہیبیشن آف اَن لاء فل ایکٹیویٹیز) ریگولیشنز 2026 نوٹیفائی کر دیے ہیں، جن کے تحت پونزئی اسکیمیں، پیرامڈ اسکیمیں، گمراہ کن ملٹی لیول مارکیٹنگ اور غیر قانونی ریفرل مارکیٹنگ ممنوع قرار دی گئی ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق یہ ضوابط ویب سائٹس، موبائل ایپلیکیشنز اور سوشل میڈیا سمیت ڈیجیٹل اور جسمانی دونوں ذرائع پر لاگو ہوں گے۔
ضوابط تمام کمپنیوں پر لاگو ہیں، بشمول غیر ملکی کمپنیوں کے۔ ان کے تحت ایسے کاروباری ماڈل ممنوع ہوں گے جن میں کمائی اصل پروڈکٹ کی فروخت کے بجائے نئے شرکاء کی بھرتی سے ہوتی ہو، یا جن میں نئے سرمایہ کاروں سے جمع کی گئی رقم پہلے شرکاء کو ادا کی جاتی ہو۔
ضوابط میں غیر حقیقی یا یقینی منافع کی یقین دہانیاں، بھاری شمولیت فیس، لازمی انوینٹری کی خریداری اور سرمایہ کاروں کی رقم کے استعمال کو چھپانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا دائرہ ایسی مصنوعات تک بھی ہے جن کی حقیقی مارکیٹ مانگ نہ ہو یا بہت کم ہو، گمراہ کن آمدنی یا پروڈکٹ کے دعوے، ناکافی ریفنڈ یا بائے بیک انتظامات، اور غیر رجسٹرڈ، غیر منظور شدہ یا غیر قانونی اشیاء کی فروخت بھی ان میں شامل ہے۔
ایسے پیرامڈ اسکیموں پر بھی پابندی ہے جن کی معاہدہ شرائط واضح نہ ہوں، جن میں خریداری کی غیر معقول شرائط ہوں یا جن میں بھرتی پر مبنی انعامات کے لیے متعدد پوزیشنوں کا انتظام ہو۔ ایس ای سی پی کے مطابق موجودہ اسکیمیں بھی ان ضوابط کے دائرے میں آئیں گی، چاہے وہ جسمانی طور پر چلیں یا آن لائن، اور کمپنیوں کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تشہیر، انعقاد یا سہولت فراہم کرنا ممنوع ہوگا۔
ایسے جائز ڈائریکٹ سیلنگ کاروبار پر پابندی نہیں ہوگی جن میں معاوضہ بنیادی طور پر صارفین کو حقیقی فروخت سے حاصل ہوتا ہو۔
خلاف ورزی پر کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 512(2) کے تحت کمپنیوں، ڈائریکٹرز اور افسران کے خلاف جرمانے ہو سکتے ہیں۔ ریگولیٹر سیکشن 301 کے تحت کمپنی کو ختم کرنے سمیت دیگر قانونی کارروائیاں بھی کر سکتا ہے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ یہ ضوابط گمراہ کن کاروباری طریقوں اور مالی استحصال کے خلاف تحفظات کو مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا: "ہمارا مقصد جائز کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور عوام کو تحفظ دینا ہے، بشمول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چلنے والی غیر قانونی اسکیموں سے۔"
ضوابط پیشہ ورانہ اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دیے گئے۔
ایس ای سی پی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ غیر معمولی یا یقینی منافع اور نئے شرکاء بھرتی کرنے پر انعامات دینے والی اسکیموں کے معاملے میں احتیاط برتیں اور رقم لگانے سے پہلے کمپنی کے قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔
رپورٹوں میں فرق
بزنس ریکارڈر نے ہی ضوابط میں ممنوع قرار دیے گئے طریقوں کی تفصیل دی، جن میں لازمی انوینٹری کی خریداری، ناکافی بائے بیک انتظامات اور متعدد پوزیشنوں کا نظام شامل ہے، اور یہ بھی لکھا کہ ضوابط پیشہ ورانہ اداروں اور کاروباری تنظیموں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دیے گئے۔ اسی نے اور ٹیک جوس نے ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا بیان نقل کیا اور سیکشن 512(2) کے تحت جرمانے اور سیکشن 301 کے تحت کمپنی ختم کرنے کا حوالہ دیا۔ پروپاکستانی نے خبر جعلی سرمایہ کاری اسکیموں کے خلاف عوام کو خبردار کرنے پر بنائی اور چیئرمین کا نام، قانونی سیکشنز یا جائز ڈائریکٹ سیلنگ کی استثنا کا ذکر نہیں کیا۔

حکومتی گاڑیوں کو بتدریج الیکٹرک گاڑیوں میں بدلنے کا منصوبہ
مجوزہ گرین گورنمنٹ فلیٹ پروجیکٹ کے تحت پہلے سرکاری گاڑیوں کی فہرست بنائی جائے گی جس میں گاڑی کی قسم، عمر، مائلیج اور ایندھن کا ریکارڈ ہوگا، پھر دفاتر میں چارجنگ پوائنٹس لگائے جائیں گے۔

ایچ ای سی: عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ
ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا کہ کیو ایس ایشیا کی فہرست میں 2020 کے 29 کی مقابلے اب 83 پاکستانی جامعات شامل ہیں۔

حکومت نے کان کنی کے لیے ٹیکس مراعات کا پیکج تیار کر لیا
قومی معدنی پالیسی 2026 کے تحت ووڈ میکینزی کے ماڈل پر تیار کردہ پیکج میں 30 سالہ سیلز ٹیکس چھوٹ اور برآمدی آمدنی پر ایک فیصد پریزمپٹو ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کا ایم کیو ایم کو انٹرا پارٹی انتخابات پر شوکاز نوٹس
کمیشن نے پارٹی کو 14 روز میں جواب دینے کی ہدایت کی ہے، اکتوبر تک دی گئی توسیع شدہ مہلت بھی گزر جانے کے بعد یہ نوٹس جاری کیا گیا۔

پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کی تعداد ریکارڈ 681,965 تک پہنچ گئی
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق اکتوبر 2026 میں 25,747 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 66 فیصد زیادہ ہیں۔

بیوی پر تشدد بھی سروس کی بدعنوانی قرار: سپریم کورٹ
عدالت نے انٹیلیجنس بیورو کے ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمے میں بریت سے محکمانہ کارروائی خودبخود ختم نہیں ہوتی۔

وزیر تجارت کا او آئی سی اجلاس میں ایکسپورٹ فنانسنگ بڑھانے کا اعلان
جام کمال خان نے استنبول میں کہا کہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک اب ٹریڈ کریڈٹ انشورنس، گارنٹی اور ری فنانسنگ کی سہولت دیتا ہے جبکہ مرابحہ، سلم اور اجارہ کی اسلامی فنانسنگ بھی بڑھائی جا رہی ہے۔

چاول برآمدات میں پاکستان نے ویتنام کو پیچھے چھوڑ دیا
ایکسپریس نیوز کے مطابق ستمبر میں پاکستان نے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن اور ویتنام نے 3 لاکھ 37 ہزار ٹن چاول برآمد کیا، جبکہ جولائی تا ستمبر حجم میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔