بیوی پر تشدد بھی سروس کی بدعنوانی قرار: سپریم کورٹ
عدالت نے انٹیلیجنس بیورو کے ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمے میں بریت سے محکمانہ کارروائی خودبخود ختم نہیں ہوتی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی ذاتی زندگی میں سنگین حرکت، بشمول اپنی بیوی پر تشدد، سروس کی بدعنوانی شمار ہو سکتی ہے، چاہے وہ دفتری اوقات سے باہر کی گئی ہو اور اس کا سرکاری فرائض سے کوئی براہ راست تعلق نہ ہو۔
عدالت نے یہ حکم انٹیلیجنس بیورو کے ایک ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے دیا، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی کو خودبخود کالعدم نہیں کرتی۔ فوجداری عدالت اور محکمے کے سامنے سوال ایک جیسا نہیں ہوتا، اور ایک کی کارروائی دوسرے کا فیصلہ نہیں کرتی۔
درخواست میں انٹیلیجنس بیورو کے ملازم کے خلاف محکمانہ کارروائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اے پی پی کی رپورٹ میں ملازم کا نام، واقعے کی تاریخ یا وہ شکایت بھی نہیں بتائی گئی جس پر محکمانہ کارروائی شروع ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مقدمہ کس بنچ نے سنا۔
عدالت نے معیار کو ذاتی زندگی میں سنگین حرکت قرار دیا۔ ایسی حرکت کو محکمہ اپنے ملازم کے خلاف وزن میں لا سکتا ہے، اگرچہ وہ گھر میں ہوئی ہو اور اس کا دفتری کام سے کوئی تعلق نہ ہو۔
فیصلے میں ذاتی زندگی کی سنگین حرکت کا عمومی ذکر ہے اور بیوی پر تشدد اس واقعے کی مثال ہے جو عدالت کے سامنے تھا۔ حکم کا انحصار اس بات پر نہیں رکھا گیا کہ فوجداری عدالت نے ملازم کو سزا دی تھی یا نہیں۔
درخواست خارج ہونے کے بعد ملازم کا محکمانہ کارروائی کو چیلنج ناکام رہا اور اس کے خلاف کارروائی برقرار ہے۔
یہ فیصلہ اس سوال کا جواب دیتا ہے جو ہر اس موقع پر سامنے آتا ہے جب کوئی محکمہ اپنے ملازم کے خلاف دفتر سے باہر کے کسی فعل پر کارروائی کرتا ہے: ملازم کے گھر کے معاملات تک محکمے کی رسائی کہاں تک ہے، اور کیا پولیس کیس کا نتیجہ اس معاملے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ عدالت کا جواب یہ ہے کہ فوجداری عدالت کی بریت کے بعد بھی محکمانہ راستہ باقی رہتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے خود کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند نہیں قرار دیا
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں دو رکنی بینچ جمعرات کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے خلاف 48 درخواستوں کی سماعت کرے گا

فیڈرل آئینی عدالت کا سپریم کورٹ بینچ کے طریقۂ کار پر سخت تحفظات کا اظہار
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ریویو پٹیشنز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انکم سپورٹ لیوی سے متعلق سپریم کورٹ کا 28 دسمبر 2021 کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

آئینی عدالت نے لیوی فیصلے کے خلاف 1,178 درخواستیں مسترد کر دیں
وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 پر سپریم کورٹ کے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم دستیاب رپورٹوں میں عدالت کی وجوہات یا بنچ کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے اسلام آباد میں ہونے والی سادہ تقریب میں حلف اٹھایا، جس کی ادائیگی جسٹس محمد علی مظہر نے کی۔

الیکشن کمیشن کا ایم کیو ایم کو انٹرا پارٹی انتخابات پر شوکاز نوٹس
کمیشن نے پارٹی کو 14 روز میں جواب دینے کی ہدایت کی ہے، اکتوبر تک دی گئی توسیع شدہ مہلت بھی گزر جانے کے بعد یہ نوٹس جاری کیا گیا۔

پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کی تعداد ریکارڈ 681,965 تک پہنچ گئی
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق اکتوبر 2026 میں 25,747 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 66 فیصد زیادہ ہیں۔

وزیر تجارت کا او آئی سی اجلاس میں ایکسپورٹ فنانسنگ بڑھانے کا اعلان
جام کمال خان نے استنبول میں کہا کہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک اب ٹریڈ کریڈٹ انشورنس، گارنٹی اور ری فنانسنگ کی سہولت دیتا ہے جبکہ مرابحہ، سلم اور اجارہ کی اسلامی فنانسنگ بھی بڑھائی جا رہی ہے۔

چاول برآمدات میں پاکستان نے ویتنام کو پیچھے چھوڑ دیا
ایکسپریس نیوز کے مطابق ستمبر میں پاکستان نے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن اور ویتنام نے 3 لاکھ 37 ہزار ٹن چاول برآمد کیا، جبکہ جولائی تا ستمبر حجم میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔