حکومت نے کان کنی کے لیے ٹیکس مراعات کا پیکج تیار کر لیا
قومی معدنی پالیسی 2026 کے تحت ووڈ میکینزی کے ماڈل پر تیار کردہ پیکج میں 30 سالہ سیلز ٹیکس چھوٹ اور برآمدی آمدنی پر ایک فیصد پریزمپٹو ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔

حکومت نے قومی معدنی پالیسی 2026 کے تحت تانبے اور سونے کی کان کنی کے لیے ٹیکس مراعات کا پیکج تیار کیا ہے اور اسے 12 اور 13 نومبر کو ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پیکج کو ابھی فنانس ڈویژن کی منظوری درکار ہے۔
ٹیک جوس اور پروپاکستانی دونوں نے رپورٹ کیا کہ یہ پیکج مشاورتی ادارے ووڈ میکینزی کے ماڈل پر بنایا گیا ہے اور اس کا تعلق تانبے اور سونے کے ان ذخائر سے ہے جن کا تخمینہ حکومت 8 ٹریلین ڈالر لگاتی ہے۔ پیکج میں ٹیکس میں کمی، چھوٹ اور ادائیگیوں میں تاخیر شامل ہے تاکہ کان کنی منصوبوں کی معاشی حیثیت بہتر ہو سکے۔
پروپاکستانی کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے فنانس ڈویژن سے کہا ہے کہ وہ اس پیکج کو ترجیحی بنیادوں پر منظور کرے۔ تجاویز رواں سال کے بجٹ عمل کے دوران فنانس ڈویژن کو دی گئی تھیں لیکن اس وقت کوئی جامع پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ پالیسی دستاویز تیار ہے مگر ٹیکس پیکج کی عدم موجودگی میں اس کی سرمایہ کاری کشی کی صلاحیت محدود رہ سکتی ہے۔
پیکج کی سب سے بڑی تجویز کان کنی منصوبوں میں استعمال ہونے والی درآمدی اور مقامی اشیا و خدمات پر 30 سالہ جنرل سیلز ٹیکس چھوٹ ہے، جو تلاش اور ترقی کے مرحلے سے شروع ہو کر تجارتی پیداوار کے آغاز تک جاری رہے گی۔ حکومت یہ بھی زیرِ غور لے رہی ہے کہ پیداوار شروع ہونے کے بعد بھی چھوٹ برقرار رکھی جائے، خاص طور پر ان برآمدی منصوبوں کے لیے جہاں ان پٹ سیلز ٹیکس ایڈجسٹ نہ ہو سکے۔
تلاش، ترقی اور تعمیر کے دوران سرمایہ کی اشیا اور منصوبے کے آلات پر درآمدی ڈیوٹی معاف کرنے کی تجویز ہے۔ پروپاکستانی کے مطابق مقامی اشیا اور خدمات پر ود ہولڈنگ ٹیکس بالترتیب 4 اور 8 فیصد کر دیا جائے گا اور ادائیگی کان کنی کی پیداوار شروع ہونے تک مؤخر رہے گی۔
ماڈل کے تحت کارپوریٹ انکم ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدنی پر ایک فیصد پریزمپٹو ٹیکس لیا جائے گا اور اس کے ساتھ 0.5 فیصد ڈیولپمنٹ سرچارج ہوگا۔ ووڈ میکینزی کے تجزیے میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کے طریقہ کار کو سرمایہ کار کی اندرونی شرحِ منافع (آئی آر آر) پر سب سے بڑا اثر ڈالنے والا عنصر قرار دیا گیا ہے۔
پیکج میں 30 سالہ سپر ٹیکس چھوٹ، تجارتی پیداوار کے آغاز کے بعد تقسیم ہونے والے منافع پر 15 سالہ ود ہولڈنگ ٹیکس چھوٹ، اور ٹیکس کی کئی سطحیں بننے سے روکنے کے لیے کان کنی کے ڈھانچے میں کمپنیوں کے درمیان منافع کی ممکنہ چھوٹ بھی تجویز کی گئی ہے۔
پروپاکستانی کے مطابق تلاش کے نقصانات کو غیر معینہ مدت تک آگے منتقل کیا جا سکے گا اور ناکام تلاش کے نقصانات کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسی گروپ کے کامیاب منصوبوں کے خلاف ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔ پیداوار شروع ہونے کے بعد فرسودگی کے الاؤنس 10 سال تک آگے منتقل کیے جا سکیں گے، جبکہ 100 فیصد تک تیز رفتار فرسودگی اور معیاری شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
ووڈ میکینزی نے مالی استحکام کی شقیں تجویز کی ہیں جو کنسیشن یا معاہدہ دیے جانے کے وقت لاگو ٹیکس شرائط کو محفوظ رکھیں گی۔ یہ فریم ورک موٹے طور پر تیل و گیس کے شعبے کو حاصل تحفظات کی پیروی کرے گا اور کان کنی کو، جہاں مناسب ہو، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے پانچویں شیڈول کے تحت لائے گا۔ مشاورتی ادارے کے مطابق استحکام اس لیے اہم ہے کہ کان کی ترقی برسوں لیتی ہے اور سرمایہ کاری کے فیصلے ٹیکس کے بارے میں طویل مدتی مفروضوں پر منحصر ہوتے ہیں۔
رپورٹوں میں فرق
دونوں رپورٹوں میں بنیادی تجاویز اور 8 ٹریلین ڈالر کا تخمینہ ایک جیسا ہے۔ صرف پروپاکستانی نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے فنانس ڈویژن سے پیکج کو ترجیح دینے کو کہا ہے، کہ تجاویز رواں سال کے بجٹ عمل میں پیش کی گئیں مگر کوئی جامع پروگرام نہیں لایا گیا، اور یہ کہ مقامی اشیا و خدمات پر ود ہولڈنگ ٹیکس 4 اور 8 فیصد ہوگا اور ادائیگی پیداوار کے آغاز تک مؤخر رہے گی۔ پروپاکستانی نے ہی ووڈ میکینزی کی مالی استحکام کی شقیں اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے پانچویں شیڈول میں تیل و گیس کے نظام کے ساتھ ہم آہنگی کی تجویز شامل کی، جو ٹیک جوس کی رپورٹ میں نہیں تھی۔ ٹیک جوس نے اقدامات کو فنانس ڈویژن کی منظوری سے مشروط بتایا مگر یہ نہیں لکھا کہ مطالبہ کس ڈویژن نے کیا۔

حکومتی گاڑیوں کو بتدریج الیکٹرک گاڑیوں میں بدلنے کا منصوبہ
مجوزہ گرین گورنمنٹ فلیٹ پروجیکٹ کے تحت پہلے سرکاری گاڑیوں کی فہرست بنائی جائے گی جس میں گاڑی کی قسم، عمر، مائلیج اور ایندھن کا ریکارڈ ہوگا، پھر دفاتر میں چارجنگ پوائنٹس لگائے جائیں گے۔

ایس ای سی پی نے پونزئی اور پیرامڈ اسکیموں پر پابندی کے ضوابط جاری کر دیے
کمپنیز (پروہیبیشن آف اَن لاء فل ایکٹیویٹیز) ریگولیشنز 2026 ویب سائٹس، موبائل ایپس اور سوشل میڈیا پر لاگو ہوں گے اور خلاف ورزی پر کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 512(2) کے تحت کارروائی ہو سکے گی۔

ایچ ای سی: عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کی تعداد میں نمایاں اضافہ
ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو بتایا کہ کیو ایس ایشیا کی فہرست میں 2020 کے 29 کی مقابلے اب 83 پاکستانی جامعات شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کا ایم کیو ایم کو انٹرا پارٹی انتخابات پر شوکاز نوٹس
کمیشن نے پارٹی کو 14 روز میں جواب دینے کی ہدایت کی ہے، اکتوبر تک دی گئی توسیع شدہ مہلت بھی گزر جانے کے بعد یہ نوٹس جاری کیا گیا۔

پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کی تعداد ریکارڈ 681,965 تک پہنچ گئی
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق اکتوبر 2026 میں 25,747 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے سے 66 فیصد زیادہ ہیں۔

بیوی پر تشدد بھی سروس کی بدعنوانی قرار: سپریم کورٹ
عدالت نے انٹیلیجنس بیورو کے ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمے میں بریت سے محکمانہ کارروائی خودبخود ختم نہیں ہوتی۔

وزیر تجارت کا او آئی سی اجلاس میں ایکسپورٹ فنانسنگ بڑھانے کا اعلان
جام کمال خان نے استنبول میں کہا کہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک اب ٹریڈ کریڈٹ انشورنس، گارنٹی اور ری فنانسنگ کی سہولت دیتا ہے جبکہ مرابحہ، سلم اور اجارہ کی اسلامی فنانسنگ بھی بڑھائی جا رہی ہے۔

چاول برآمدات میں پاکستان نے ویتنام کو پیچھے چھوڑ دیا
ایکسپریس نیوز کے مطابق ستمبر میں پاکستان نے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن اور ویتنام نے 3 لاکھ 37 ہزار ٹن چاول برآمد کیا، جبکہ جولائی تا ستمبر حجم میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔