مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سندھ ای پی اے نے انٹیگریٹڈ ماحولیاتی نگرانی ایم آئی ایس لانچ کیا

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اس نظام کی لاگت اور آغاز کی تاریخ کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے صوبائی سطح پر ماحولیاتی نگرانی کا مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم لانچ کیا ہے، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے بدھ کو رپورٹ کیا۔ اس نظام کا نام سندھ انٹیگریٹڈ انوائرمنٹل مانیٹرنگ ایم آئی ایس ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس لانچ کا اعلان ایک مختصر خبر میں کیا گیا جس میں نظام کی لاگت، تکنیکی شراکت داروں یا اس کے فعال ہونے کی تاریخ کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ سیپا سندھ میں ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کی ذمہ دار صوبائی ادارہ ہے۔

نیا نظام بظاہر صوبے بھر میں ماحولیاتی ڈیٹا کو مرکزی بنانے کے لیے ہے، لیکن ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ رپورٹ میں سندھ حکومت یا سیپا حکام کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔

پاکستان میں ماحولیاتی نگرانی تاریخی طور پر منتشر رہی ہے اور صوبائی اداروں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کو بہتر بنانے کا دباؤ رہا ہے۔ سندھ حکومت نے ماحولیاتی گورننس کو مضبوط کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، لیکن ایجنسی کی رپورٹ میں کوئی اضافی پس منظر شامل نہیں کیا گیا۔

سیپا سے مزید تفصیلات متوقع ہیں۔

سیاستسندھ

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم

رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سیاستسندھ

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی

کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

معیشتسندھ

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے

سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سیاستسندھ

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔