تفتان بارڈر کھل گیا، ایران کے ساتھ جزوی تجارت بحال
دی اسٹار کے مطابق پاکستانی طرف ہزاروں ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بلوچستان پلس کا کہنا ہے کہ ایل پی جی ٹرکوں کی کلیئرنس اب بھی باقی ہے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحدی گزرگاہ تفتان سے تجارت پیر کے روز جزوی طور پر بحال ہو گئی ہے، جہاں پاکستانی طرف ہزاروں ٹرک انتظار میں کھڑے ہیں۔ یہ اطلاع دی اسٹار اور بلوچستان پلس کی رپورٹس میں دی گئی ہے۔
دی اسٹار کے مطابق جزوی تجارت بحال ہونے کے باوجود ہزاروں ٹرک پھنسے ہوئے تھے۔ بلوچستان پلس نے بتایا کہ بارڈر پیر کو کھل رہا ہے اور تفتان پر تجارت بحال ہو رہی ہے، تاہم ایل پی جی لے جانے والے ٹرکوں کو اب بھی کلیئرنس کا انتظار ہے۔
تفتان بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے اور پاکستان اور ایران کے درمیان بنیادی زمینی گزرگاہ ہے، جس سے دونوں ملکوں کی برآمدی و درآمدی تجارت اور ایندھن کی نقل و حمل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
دونوں رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تجارت کیوں معطل ہوئی، معطلی کب شروع ہوئی، اور نہ ہی انتظار کرنے والی گاڑیوں کی صحیح تعداد بتائی گئی ہے؛ صرف ’ہزاروں‘ کا ذکر ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جزوی بحالی کے تحت معمول کی کتنی ٹریفک چل رہی ہے اور آیا کارگو کے ساتھ مسافروں کی آمدورفت بھی بحال ہوئی ہے یا نہیں۔
بلوچستان پلس کے مطابق تجارت بحال ہونے کے باوجود ایل پی جی ٹرکوں کی کلیئرنس باقی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام کارگو فوری طور پر نہیں چل رہا۔ اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ٹینکروں کو کس کلیئرنس کا انتظار ہے اور یہ کارروائی کون سی حکام انجام دے رہے ہیں۔
کسی رپورٹ میں کسٹم حکام، وزارت تجارت، بلوچستان حکومت یا ایرانی سرحدی حکام کا کوئی بیان موجود نہیں تھا، اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ باقی ٹرک کب تک کلیئر کیے جا سکیں گے۔
تفتان پر ٹرکوں کی طویل قطاروں کا اثر دونوں ملکوں کے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں پر پڑتا ہے، جو خوراک، ایندھن اور روزمرہ اشیاء کی نقل و حمل کے لیے چاغی کے راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ گاڑیوں کے پھنسنے سے مال بروقت نہیں پہنچتا، کرایہ بڑھتا ہے اور درآمدی ایل پی جی کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے۔
دونوں اداروں نے یہ خبر پیر کی صبح شائع کی۔ ٹریفک کے حجم اور ایل پی جی ٹرکوں کی کلیئرنس کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔