تارڑ: کے پی حکومت امن و امان کی ذمہ داری سے گریزاں
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے اور سیاسی، دہشت گردی اور جرائم کا گٹھ جوڑ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جمعے کو خیبر پختونخوا حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی آئینی ذمہ داری سے جان بوجھ کر انحراف کر رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق تارڑ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے "جان بوجھ کر انحراف" کی اصطلاح استعمال کی۔
دی ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں "سیاسی، دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ" کا ذکر کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے "ٹال مٹول کی پالیسی" اپنائے ہوئے ہے۔
دونوں رپورٹوں میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وزیر کے الزامات پر کوئی جواب شامل نہیں کیا گیا۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔