نئی آٹو پالیسی: سستی گاڑیوں اور الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور مشیر ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں کہا کہ مکمل تیار گاڑیوں اور اسمبلی پلانٹس پر ڈیوٹی اگلے پانچ سال میں ہر سال کم ہوگی۔

وفاقی حکومت نے ہفتے کے روز نئی آٹو پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا اور مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا ہے۔ پالیسی کے تحت مکمل تیار گاڑیوں اور اسمبلی پلانٹس پر ڈیوٹی اگلے پانچ سال کے دوران ہر سال کم ہوتی جائے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں پالیسی کا اعلان کیا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس فریم ورک پر کافی وقت دیا اور اسے تیار کرنے میں بہت محنت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی چھ بنیادی ترجیحات پر کھڑی ہے: سستی گاڑیاں، خاص طور پر درمیانی اور زیریں درمیانی آمدنی والے گھرانوں کے لیے، برآمدات، مقامی مینوفیکچرنگ، گاڑیوں کی حفاظت، الیکٹرک موبلٹی اور شفافیت۔
ہارون اختر خان کے مطابق حکومت نے اپنی وسیع ٹیرف پالیسی بھی اس فریم ورک میں شامل کی ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور درآمدی خام مال پر انحصار گھٹے۔ پیداوار سستی ہونے سے گاڑیوں کی قیمتیں بتدریج کم ہوں گی اور ٹیرف میں تبدیلیاں مینوفیکچررز کی مدد کے ساتھ گاڑیاں سستی بنانے کے لیے وضع کی گئی ہیں۔
ان کے بیان کے مطابق مکمل تیار گاڑیوں اور اسمبلی پلانٹس پر ڈیوٹی اگلے پانچ سال میں سالانہ کم ہوگی۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس سے ٹیرف کے زیادہ مسابقتی حالات پیدا ہوں گے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق فریم ورک کا مقصد گاڑیوں کی برآمدات بڑھانا اور ملکی آٹو انڈسٹری کو مضبوط کرنا بھی ہے۔
لگژری گاڑیاں قیمتوں میں مجوزہ کمی سے مستثنیٰ رہیں گی۔ الیکٹرک گاڑیوں کو سستی روایتی گاڑیوں کے ساتھ ایک الگ ترجیح رکھا گیا ہے اور پالیسی میں مقامی پیداوار کو مضبوط کرنے کے لیے لوکلائزیشن کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
ڈیلی ٹائمز نے بتایا کہ قیمتوں میں کتنی کمی ہوگی، اس کا کوئی خاص تخمینہ اور نہ ہی تبدیلیوں کے نفاذ کی کوئی تاریخ بتائی گئی۔
رپورٹوں میں فرق
ڈان نے پالیسی کی توجہ سستی گاڑیوں اور الیکٹرک گاڑیوں پر رکھی اور بتایا کہ یہ چھ بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے جن کا آغاز درمیانی طبقے کے لیے سستی گاڑیوں سے ہوتا ہے۔ ڈیلی ٹائمز نے چھ ترجیحات کی مکمل فہرست دی جس میں برآمدات، گاڑیوں کی حفاظت اور شفافیت شامل ہیں، اور بتایا کہ مکمل تیار گاڑیوں اور اسمبلی پلانٹس پر ڈیوٹی پانچ سال میں سالانہ کم ہوگی۔ صرف ڈیلی ٹائمز نے بتایا کہ لگژری گاڑیاں قیمتوں میں کمی سے مستثنیٰ ہیں اور قیمتوں میں کمی کا کوئی تخمینہ یا نفاذ کی تاریخ نہیں دی گئی۔

حکومت کا نئی آٹو پالیسی کا اعلان، 6 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف
وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر کا کہنا ہے کہ لگژری کے علاوہ تمام گاڑیاں سستی ہوں گی، الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

آٹو پارٹس ساز کمپنیاں پانچ سالہ آٹو پالیسی کا جائزہ مانگتی ہیں
مطالبے کی بنیاد ٹیکس میں رعایت کی مقدار نہیں بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی پوری مدت کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح پہلے سے معلوم ہو، دو رپورٹوں کے مطابق۔

ایئر لنک نے ایئر وی کے 11 الیکٹرک بائیک ماڈلز متعارف کرا دیے
کمپنی کے مطابق ایک چارج پر رینج 200 کلومیٹر تک ہے اور پیداوار لاہور کے سندھر گرین اسپیشل اکنامک زون میں ہو رہی ہے، جبکہ سینیٹ کمیٹی آٹو پالیسی کی تاخیر پر تشویش میں ہے۔

حکومت مقامی ایل پی جی کی 90 فیصد پیداوار نیلام کرے گی
پٹرولیم وزارت کے مطابق 10 فیصد پیداوار سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کو دشوار گزار علاقوں کے لیے دی جائے گی، باقی مقدار میڈیا کی موجودگی میں ہونے والی نیلامی میں فروخت ہوگی۔

ایل پی جی شہروں میں 650 روپے فی کلو تک فروخت، اوگرا کا ریٹ 294 روپے
کراچی، لاہور، ملتان، کوئٹہ، گھوٹکی اور سرگودھا میں صارفین 530 سے 650 روپے فی کلوگرام ادا کر رہے ہیں جبکہ اوگرا نے نومبر کے لیے 294 روپے فی کلوگرام کی قیمت مقرر کی ہے۔

سری لنکا ٹیسٹ کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں عامر جمال اور تین نئے کھلاڑی شامل
بابر اعظم کی قیادت میں 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان، پہلا ٹیسٹ پیر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں اور دوسرا 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ: چھ کمپنیاں رجسٹر، مگر کام کی اجازت نہیں
رجسٹریشن کے بعد بھی ہر کمپنی کو پی ایس اے آر بی کا این او سی، وزارت داخلہ کی سیکیورٹی کلیئرنس اور پی ٹی اے کا لائسنس لینا ہو گا۔

پٹرولیم وزیر نے ایل پی جی کی فراہمی اور مناسب قیمتوں کو ترجیح قرار دیا
علی پرویز ملک نے ملک بھر میں ایل پی جی نیلامی کی نگرانی والی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی، جس کے چند دن پہلے چار سرکاری اداروں کو درآمد دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔