ایران سرحد جزوی طور پر کھلنے کے باوجود تجارت محدود، ایل پی جی مہنگی
تاجروں کے مطابق صرف 16 اکتوبر سے پہلے بُک ہونے والا سامان سرحد عبور کر رہا ہے، جبکہ کوئٹہ میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

پاکستان اور ایران کے درمیان دو اہم سرحدی گزرگاہوں پر تجارت جزوی طور پر بحال ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی مکمل نہیں ہو سکی، تاجروں کا کہنا ہے کہ صرف وہی سامان سرحد عبور کر رہا ہے جس کی بکنگ 16 اکتوبر سے پہلے ہوئی تھی، جبکہ بلوچستان میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
گبد۔ریمدان اور تفتان۔میرجاوہ گزرگاہیں 17 اکتوبر کو بند کی گئی تھیں، جس سے دونوں جانب ہزاروں مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں، اور 25 اکتوبر کو دوبارہ کھول دی گئیں۔ دونوں حکومتوں نے معطلی کو عارضی قرار دیا لیکن وجوہات مختلف بتائیں: حکومتِ بلوچستان کے ترجمان اور وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شاہد رند نے کہا کہ مقصد سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانا تھا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعض غیر واضح ’تکنیکی مسائل‘ کا ذکر کیا جن کی وجہ سے ’فوری احتیاطی اقدامات‘ ضروری تھے۔
تفتان میں ایک سینیئر افسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایران کو پاکستان کی برآمدات مکمل بحال ہیں، تاہم صرف اُن درآمدات کو پراسیس کیا جا رہا ہے جو 16 اکتوبر 2026 تک یا اس سے پہلے کے آڈرز سے متعلق ہیں۔ انھوں نے اس کی وجہ وزارتِ تجارت کا وہ فیصلہ بتایا جس کے تحت ایران سے درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنیٰ واپس لے لیا گیا۔ یہ استثنیٰ 3 اکتوبر کو جاری ہوا تھا اور صرف 13 دن بعد منسوخ کر دیا گیا۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی نے بتایا کہ روزانہ 60 سے 70 گاڑیوں کو چھوڑا جا رہا ہے اور ایرانی کمپنیوں نے نقصان کے خدشے کے باعث پاکستان کے لیے بکنگ بند کر دی ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید کلمتی نے بھی محدود کلیئرنس کی تصدیق کی۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سرحد کھلی ہوئی ہے، لیکن تجارت کی جزوی بحالی کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے کہا: ’یہ صوبائی معاملہ نہیں۔ یہ معاملات وفاق دیکھتا ہے۔‘
تفتان کے تاجر رہنما حاجی شوکت عیسیٰ زئی نے بتایا کہ ایران سے آنے والے سامان کا تقریباً 70 فیصد ایل پی جی ہے۔ پاکستان روزانہ تقریباً سات ہزار ٹن ایل پی جی ایران سے درآمد کرتا ہے؛ گوادر چیمبر کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق صرف گبد۔ریمدان کے راستے روزانہ چار ہزار ٹن سے زیادہ گیس آتی ہے۔
قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ کوئٹہ میں ایل پی جی فروخت کرنے والے تُشار کمہار نے بتایا کہ سرحد بند ہونے سے پہلے گیس 480 روپے فی کلو تھی جو درآمد رکنے کے بعد 600 روپے تک پہنچ گئی۔ روئٹرز کے مطابق 12 کلوگرام سلنڈر کی قیمت چند روز میں ساڑھے چار ہزار سے تقریباً سات ہزار روپے ہو گئی۔
انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق ایک ڈسٹری بیوٹر مجید اللہ نے بتایا کہ 11 کلو 800 گرام سلنڈر ایک ہفتہ قبل چار ہزار سے 4,200 روپے میں ملتا تھا، پھر سات ہزار تک پہنچا اور اب تقریباً 5,500 روپے ہے، جبکہ 15 کلو سلنڈر آٹھ ہزار سے 8,200 روپے اور کمرشل سلنڈر تقریباً 25 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بتایا کہ مارکیٹنگ کمپنیوں کو مقامی گیس 235 سے 240 روپے فی کلو ملتی ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ تقریباً 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو ایکس پر کہا کہ ایران نے پاکستان کو ایل پی جی سمیت اشیا کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور اس کی تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔ انھوں نے رکاوٹ کی وجہ پاکستان کے ای فارم طریقہ کار میں تبدیلیاں بتائیں اور کہا کہ حل کے لیے مشاورت جاری ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔