مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کو سراہا

عباس عراقچی نے ارنا کے مطابق تہران کی شرائط پر قطر اور پاکستان کے رابطوں کو سراہا، جبکہ ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کو سراہا

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری تنازعے کو حل کرنے میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کو سراہا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق انہوں نے ہفتے کو تہران کی شرائط پر قطر اور پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے رابطوں اور کوششوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔

ان شرائط میں پابندیاں اٹھانا، منجمد اثاثے بحال کرنا، خطے میں امریکی فوج کی موجودگی کم کرنا اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہے۔

مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے خلیج میں جاری جنگ سے نکلنے کے راستوں پر بات چیت کے لیے ہفتے کو دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کیے۔ یہ مذاکرات امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد نئی لڑائی سے بچنے کی کوششوں کے دوران ہوئے۔

ذریعے کے مطابق دوحہ میں ہونے والی یہ بات چیت جمعے کو تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان 12 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی گفتگو کے بعد ہوئی، اور اسے واشنگٹن کے ساتھ باقاعدہ رابطوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے عسکری سربراہ نے رواں ماہ دو بار تہران کا دورہ کیا اور علاقائی ممالک کے نمائندوں اور ایران کے دفاعی حکام کے ساتھ خطے میں امن پر بات چیت کی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ تنازعے کے سفارتی حل کو ترجیح دیں گے۔ اٹلانٹا میں جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے روبیو نے قطر میں جاری مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو ایک بیان میں مسلح افواج کو کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح یا قسم کے خطرے کا فوری، موثر اور جغرافیائی قید سے آزاد جواب دیا جانا چاہیے۔ وہ جنگ کے آغاز میں قتل ہونے والے اپنے والد کی جگہ لینے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔

ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضایی نے کہا کہ تہران اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں پر عائد اپنی طویل مدتی پابندی اٹھائی جائے یا نہیں، تاہم ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک واشنگٹن ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، ایٹمی پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ جنگ چھیڑی تھی اور انہوں نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے منصوبوں کا بارہا اشارہ دیا ہے۔ خطے کے ممالک توقع کر رہے ہیں کہ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد وہ دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کا جواب پڑوسی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا کر دے گا۔

واشنگٹن نے بھی حال ہی میں سفارت کاری کی طرف آمادگی کے اشارے دیے ہیں۔ اس ہفتے کے اوائل میں نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پچھلے دور میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، نے سکیورٹی چیف رضایی کو خط لکھا۔ نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل نے اسے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے امکان کو جانچنے کے لیے ایک پیش رفت قرار دیا۔

معیشت

بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کر دی، پاکستانی تاجروں کے فنڈز پھنس گئے

منٹ مرر کے مطابق واقعے کے بعد 48 گھنٹے کے لیے ڈپازٹس اور وڈرالز معطل رہے، جس سے پی ٹو پی تاجر یو ایس ڈی ٹی منتقل نہ کر سکے اور فری لانسرز روپے میں تبدیلی کے منتظر رہے۔

معیشت

کاٹن جنرز فورم: حکومتی اقدامات سے کپاس شعبے کی مایوسی بڑھ گئی

فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بھارت نے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات 31 دسمبر تک بڑھا دی ہیں جبکہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔

ترقی

احسن اقبال کا شندور-گلگت روڈ سمیت این ایچ اے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت

منصوبہ بندی کے وزیر نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے اور ٹھیکیداروں کے مالی دعووں کی جانچ کی ہدایت کی؛ شندور-گلگت روڈ 67.33 فیصد مکمل ہے۔

معیشت

ہرمز کے قریب پاکستان جانے والا ایل این جی ٹینکر حملے کا نشانہ

نقیلات کا کہنا ہے کہ عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں اور جہاز قابو میں ہے، مگر پاکستان نے یہ نہیں بتایا کہ کارگو ملک پہنچے گا یا اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل گیس خریدی جائے گی۔