کراچی کے ہسپتالوں میں فلو کے مریض دوگنے، ایچ ون این ون کی تصدیق
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں اس سال انفلوئنزا کے تقریباً 400 کیس درج ہوئے، جبکہ سول ہسپتال اور جے پی ایم سی میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد 70 سے 80 تک پہنچ گئی ہے۔

کراچی کے بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ فلو کے مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں انفلوئنزا کی ایچ ون این ون قسم گردش کر رہی ہے۔
دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) نے اس سال انفلوئنزا کے تقریباً 400 کیس درج کیے ہیں۔ ہسپتال کے شعبہ متعدی امراض کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود نے بتایا کہ ایچ ون این ون، جسے عام طور پر سوائن فلو بھی کہا جاتا ہے، کراچی میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفلوئنزا وائرس وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور سال کے آخر تک کیسز کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق مشتبہ انفلوئنزا کے ہر مریض کا ٹیسٹ نہیں ہوتا اور جانچ عموماً صرف شدید بیمار افراد کے لیے کی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مرض نمونیا جیسی سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں، اور بزرگوں، بچوں اور بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کم رکھنے والے افراد کو ویکسین لگوانے کی تاکید کی۔
سول ہسپتال کراچی کے ایمرجنسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر عمران سرور شیخ نے دی ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ گزشتہ چند روز میں فلو کی علامات کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے اور روزانہ 70 سے 80 مریض پہنچ رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 10 مشتبہ انفلوئنزا کیسز کو ٹیسٹ اور مزید معائنے کے لیے ڈاؤ ہسپتال بھیجا جا رہا ہے۔
ڈان کے مطابق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے ایمرجنسی شعبے کے نائب انچارج ڈاکٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں فلو کے مریضوں کی تعداد روزانہ 30 سے 40 سے بڑھ کر 70 سے 80 ہو گئی، جس کی وجہ موسم کی بتدریج تبدیلی اور بالخصوص رات کے درجہ حرارت میں کمی ہے۔ ڈان نے بتایا کہ جے پی ایم سی اور سول ہسپتال میں گزشتہ 10 دنوں میں اس ماہ کے پہلے نصف کے مقابلے زیادہ کیسز سامنے آئے۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ عام علامات میں تیز بخار، ناک بہنا اور کھانسی شامل ہیں، اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں یہ مرض سانس کے نظام کو متاثر کر کے نمونیا یا پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے بیمار افراد اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کو ماسک پہننے، جسمانی فاصلہ رکھنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔
ڈاکٹروں نے کہا کہ انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہے اور زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو ڈاکٹر سے مشورے کے بعد ویکسین لگوانی چاہیے۔ انہوں نے متوازن غذا، شوربے، یخنی اور پانی سے بھرپور پھلوں کے استعمال کی تجویز دی تاکہ مریضوں میں پانی کی کمی نہ ہو۔
فلو کے کیسز میں اضافے نے پاکستان میں ویکسین کے معیار اور دستیابی سے متعلق تشویش کو پھر تازہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ویکسینیشن موسمی انفلوئنزا کے پھیلاؤ اور شدت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، مگر عوام کو ویکسین صرف مستند اور قابلِ اعتماد ذرائع سے حاصل کرنی چاہیے۔ موسم سرما کے ساتھ بین الاقوامی سفر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ویکسین اور بنیادی احتیاطی تدابیر ہی اس بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔