افغان پابندی کے بعد بلوچستان میں پوست کی کاشت پھیلنے کی رپورٹس
دو آزاد ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے سیستان و بلوچستان میں پوست کی کاشت بڑھی ہے، تاہم کسی رپورٹ میں رقبے، پیداوار یا متاثرہ اضلاع کا ذکر نہیں۔
افغانستان میں پوست کی کاشت پر عائد پابندی کے بعد پاکستان کے صوبے بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دعویٰ دو آزاد ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں کیا گیا ہے۔
خبرگزاری اطلس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ افغان پابندی کے بعد بلوچستان کے علاقے میں پوست کی کاشت پھیل رہی ہے۔ امید رادیو نے بھی یہی پیش رفت رپورٹ کی اور پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان کا نام لیا، جو اسی سرحدی علاقے کا ایرانی حصہ ہے۔
جس صورت میں دونوں رپورٹیں شائع ہوئیں، ان میں نہ زیرِ کاشت رقبے کا کوئی عدد ہے، نہ متوقع پیداوار کا حجم، اور نہ متاثرہ اضلاع کی تعداد بتائی گئی ہے۔ کسی رپورٹ میں ایسا کوئی اعداد و شمار بھی نہیں دیا گیا جس سے اس اضافے کا موازنہ گزشتہ برسوں سے کیا جا سکے، اور نہ ہی ان اضلاع کے نام دیے گئے ہیں جہاں کاشت پھیلنے کا کہا گیا ہے۔ دونوں رپورٹوں کا بنیادی نکتہ ایک ہی ہے: افغانستان میں پابندی کے نافذ ہونے کے بعد پاک ایران سرحد کے دونوں طرف کاشت بڑھی ہے۔
یہ اضافہ ایسے علاقے میں بتایا گیا ہے جو دو ملکی سرحدوں پر پھیلا ہوا ہے۔ بلوچستان کی شمال مغرب میں افغانستان اور مغرب میں ایران کے ساتھ طویل، کم آباد اور کم نگرانی والی سرحد ہے، جبکہ سیستان و بلوچستان اسی سرحدی لکیر کے ایرانی جانب واقع ہے۔ اس خطے کا دشوار گزار رقبہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود موجودگی یہاں نگرانی کو ہمیشہ مشکل بناتی رہی ہے۔
دونوں رپورٹوں میں کوئٹہ میں بلوچستان حکومت، پاکستان کے اینٹی نارکوٹکس فورس یا سیستان و بلوچستان کے صوبائی حکام کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔ کسی پاکستانی یا ایرانی اہلکار کا ایسا بیان سامنے نہیں آیا جس میں اس اضافے کی تصدیق یا تردید کی گئی ہو، اور نہ ہی کسی آزاد سروے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا۔
دونوں ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کاشت میں اضافے کا تعین کیسے کیا، زمینی رپورٹنگ، مقامی اہلکاروں، کاشتکاروں یا سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے۔ سکردو ٹائمز اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
رپورٹوں میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اس اضافے کا اثر نفاذ کے اقدامات، متاثرہ اضلاع میں کسانوں کی آمدنی، یا علاقائی منڈیوں میں افیون اور اس سے بننے والی اشیاء کی قیمت پر کیا پڑے گا۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔