ایس این جی پی ایل نے نئے گیس کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی
تندور اور ہوٹل بھی اس ماہ سے بند، جبکہ فوری فیس ادا کرنے والے ہزاروں صارفین کو کنکشن کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔

سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے نئے گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی غیر معینہ مدت تک بڑھا دی ہے، اور اس ماہ سے تندوروں اور ہوٹلوں کے تجارتی کنکشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ کمپنی کے افسران کے مطابق یہ پابندی وزارتِ پٹرولیم نے لگائی ہے اور ایران اور امریکہ کی جنگ ختم ہونے تک کنکشن بحال ہونے کا امکان نہیں۔
ڈیلی ٹائمز اور پروپاکستانی دونوں نے ایس این جی پی ایل کے افسران اور کمپنی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی۔ ہزاروں درخواست گزار فوری فیس ادا کرنے کے باوجود کنکشن کے منتظر ہیں اور انہیں لگنے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
کمپنی نے کمی کی وجہ ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی سپلائی میں خلل کو قرار دیا۔ موجودہ تقسیمی نظام میں طلب اور دستیاب گیس کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے، اور سردیوں کی آمد کے ساتھ مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے موجودہ گھریلو صارفین کو بھی بلا تعطل گیس دینا مشکل ہو گیا ہے۔
پروپاکستانی کے مطابق حکومت نے اسی آر ایل این جی خلل کی وجہ سے رواں سال اپریل میں پہلی بار نئے کنکشن بند کیے تھے، اور اب یہ پابندی بغیر کسی مقررہ مدت کے بڑھا دی گئی ہے۔
پائپڈ گیس سے محروم گھرانوں کے لیے ایل پی جی بنیادی متبادل ہے اور یہ مزید مہنگی ہو رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 3,470.09 روپے مقرر کی ہے، جو اکتوبر کے مقابلے میں 173.86 روپے زیادہ ہے۔ پروپاکستانی کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں ایل پی جی تقریباً 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جس سے ایک سلنڈر کی قیمت تقریباً 7,080 روپے بنتی ہے، یعنی سرکاری قیمت سے تقریباً 3,610 روپے زائد۔ سردیوں میں ماہانہ دو سلنڈر استعمال کرنے والا خاندان مارکیٹ ریٹ پر تقریباً 14,160 روپے ادا کرے گا جبکہ سرکاری قیمت پر یہ خرچ 6,940 روپے ہوگا۔
اسی رپورٹ کے مطابق حکومت قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر ایل پی جی پالیسی کا جائزہ لے رہی ہے۔
فوری فیس ادا کرنے والے صارفین کے پاس کنکشن لگنے کی کوئی مقررہ تاریخ نہیں۔ افسران نے نئے کنکشنز کی بحالی کو گیس کی سپلائی بہتر ہونے سے مشروط کیا ہے۔

بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کر دی، پاکستانی تاجروں کے فنڈز پھنس گئے
منٹ مرر کے مطابق واقعے کے بعد 48 گھنٹے کے لیے ڈپازٹس اور وڈرالز معطل رہے، جس سے پی ٹو پی تاجر یو ایس ڈی ٹی منتقل نہ کر سکے اور فری لانسرز روپے میں تبدیلی کے منتظر رہے۔

کاٹن جنرز فورم: حکومتی اقدامات سے کپاس شعبے کی مایوسی بڑھ گئی
فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بھارت نے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات 31 دسمبر تک بڑھا دی ہیں جبکہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔

احسن اقبال کا شندور-گلگت روڈ سمیت این ایچ اے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
منصوبہ بندی کے وزیر نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے اور ٹھیکیداروں کے مالی دعووں کی جانچ کی ہدایت کی؛ شندور-گلگت روڈ 67.33 فیصد مکمل ہے۔

ہرمز کے قریب پاکستان جانے والا ایل این جی ٹینکر حملے کا نشانہ
نقیلات کا کہنا ہے کہ عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں اور جہاز قابو میں ہے، مگر پاکستان نے یہ نہیں بتایا کہ کارگو ملک پہنچے گا یا اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل گیس خریدی جائے گی۔