نایاب علی جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کے وفد میں شامل
وزارتِ انسانی حقوق کے نوٹیفکیشن کے مطابق 3 اور 4 نومبر کو پاکستان کی معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا، وفد کی سربراہی بیرسٹر عقیل ملک کریں گے۔

وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے رواں ماہ جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ٹرانس جینڈر حقوق کی کارکن نایاب علی 3 اور 4 نومبر کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی کمیٹی (سی ای ایس سی آر) کے اجلاس میں پاکستان کے سرکاری وفد کا حصہ ہوں گی، جہاں پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔
چار رکنی وفد کی سربراہی وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کریں گے اور نایاب علی کو ٹرانس جینڈر حقوق کی کنسلٹنٹ کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے کسی معاہدے کے جائزے میں اپنے سرکاری وفد میں ٹرانس جینڈر خاتون کو شامل کیا ہے۔ فروری 2020 میں عائشہ مغل نے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق کمیٹی (سی ای ڈی اے ڈبلیو) کے اجلاس میں وزارتِ انسانی حقوق میں ٹرانس جینڈر ماہر کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے اس وقت اسے کسی ٹرانس جینڈر فرد کی اقوامِ متحدہ کے معاہداتی جائزے میں پہلی سرکاری شرکت قرار دیا تھا۔
نایاب علی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلام آباد منتقل ہونے سے پہلے وہ اوکاڑہ میں اپنے گرو کے پاس رہتی تھیں۔ اسی دوران ایک ٹرانس جینڈر خاتون کو ایک تقریب کے بعد گینگ ریپ اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق جب متاثرہ خاتون نے گرو سے مدد مانگی تو گرو نے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور آواز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ نایاب علی کہتی ہیں کہ وہ اس خاتون کے ساتھ مقامی پولیس سٹیشن گئیں، مقدمہ درج کرانے میں مشکلات پیش آئیں مگر بالآخر مقدمہ درج ہو گیا، تاہم بعد میں ان کی اطلاع کے بغیر فریقین میں راضی نامہ ہو گیا اور مقدمہ ختم کر دیا گیا۔
ان کے مطابق 2016 میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے مرید والا میں ایک میوزک فیسٹیول کے دوران جب وہ پرفارم کر رہی تھیں، ان پر تیزاب پھینکا گیا جس سے ان کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ماہ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہیں۔
صحت یابی کے بعد انہوں نے اوکاڑہ میں خواجہ سراؤں کے لیے کمیونٹی سینٹر قائم کیا، جہاں بنیادی تعلیم، خواندگی، فنی تربیت اور زندگی کی مہارتوں سے متعلق سرگرمیاں چلائی جاتی ہیں۔
نایاب علی نے 2018 کے عام انتخابات میں اوکاڑہ کے حلقے این اے 142 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا اور ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کی تیاری میں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے وزارتِ انسانی حقوق اور یو این ڈی پی سمیت مختلف اداروں کے ساتھ مشاورتی اور پالیسی سطح پر کام کیا۔
اسلام آباد پولیس میں وہ ٹرانس جینڈر پروٹیکشن یونٹ کی انچارج اور جینڈر پروٹیکشن یونٹ کی اضافی انچارج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے کام میں خواجہ سرا افراد کے خلاف تشدد کے واقعات میں پولیس کے ردعمل کو بہتر بنانا، تحفظ کے مراکز اور تربیت شامل ہے۔
2025-2026 میں انہیں ہارورڈ کینیڈی سکول کے کیر-ریان سینٹر فار ہیومن رائٹس میں گلوبل ایل جی بی ٹی کیو ہیومن رائٹس فیلو منتخب کیا گیا، جہاں انہوں نے انسانی حقوق، صنفی مساوات اور مسلم اکثریتی معاشروں میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق پر تحقیقی کام کیا۔ 2020 میں فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے انہیں فرینکو جرمن پرائز فار ہیومن رائٹس اینڈ دی رول آف لاء سے نوازا، جبکہ گالاز انٹرنیشنل ایکٹوسٹ ایوارڈ بھی انہیں مل چکا ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق صدرِ پاکستان نے 14 اگست 2026 کو سماجی خدمات کے شعبے میں انہیں ستارہِ امتیاز دینے کا اعلان کیا اور وہ اس اعزاز کے لیے نامزد ہونے والی پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر شخصیت ہیں۔ اعزاز دینے کی باضابطہ تقریب 23 مارچ 2027 کو منعقد ہو گی۔

بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کر دی، پاکستانی تاجروں کے فنڈز پھنس گئے
منٹ مرر کے مطابق واقعے کے بعد 48 گھنٹے کے لیے ڈپازٹس اور وڈرالز معطل رہے، جس سے پی ٹو پی تاجر یو ایس ڈی ٹی منتقل نہ کر سکے اور فری لانسرز روپے میں تبدیلی کے منتظر رہے۔

کاٹن جنرز فورم: حکومتی اقدامات سے کپاس شعبے کی مایوسی بڑھ گئی
فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بھارت نے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات 31 دسمبر تک بڑھا دی ہیں جبکہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔

احسن اقبال کا شندور-گلگت روڈ سمیت این ایچ اے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
منصوبہ بندی کے وزیر نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے اور ٹھیکیداروں کے مالی دعووں کی جانچ کی ہدایت کی؛ شندور-گلگت روڈ 67.33 فیصد مکمل ہے۔

ہرمز کے قریب پاکستان جانے والا ایل این جی ٹینکر حملے کا نشانہ
نقیلات کا کہنا ہے کہ عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں اور جہاز قابو میں ہے، مگر پاکستان نے یہ نہیں بتایا کہ کارگو ملک پہنچے گا یا اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل گیس خریدی جائے گی۔