وقار یونس کا بابر اعظم کا دفاع، عماد وسیم نے بھی تنقید پر سوال اٹھایا
سابق کپتان نے بھارتی پوڈ کاسٹ میں کہا کہ بابر اکیلا ہے، پھر ریپڈ فائر میں کوہلی اور بمراہ کو بابر اور شاہین پر ترجیح دی، جس پر فیصل اقبال نے تنقید کی۔

پاکستان کے سابق کپتان اور ہیڈ کوچ وقار یونس نے بابر اعظم کی بیٹنگ پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے ایک بھارتی پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ کا بوجھ ایک کھلاڑی کے کندھوں پر ہے، جس پر سابق کرکٹرز اور شائقین کی طرف سے ملی جلی ردعمل سامنے آئی ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق وقار یونس شبھنکر مشرا کے پوڈ کاسٹ میں مہمان تھے، جو شارجہ میں ریکارڈ ہوا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھا۔ پوڈ کاسٹ بدھ کو نشر ہوا۔ اس میں پوچھا گیا کہ پاکستان کا آخری سپر اسٹار کون ہے تو وقار یونس نے محمد عامر کا نام لیا اور کہا کہ بابر اعظم اور شاہین آفریدی سپر اسٹار ہیں۔
میزبان نے کہا کہ وہ بھارتی ہیں لیکن انہیں شاہد آفریدی، وسیم اکرم، سعید انور، انضمام الحق اور محمد یوسف کی بھارت کے خلاف کارکردگیاں یاد ہیں، بابر اعظم کی نہیں۔ وقار یونس کا جواب تھا کہ بابر اکیلا ہے، اگر اس کے گرد چار نام ہوتے تو دباؤ کم ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی میں پاکستان کی ٹاپ سکس کے چھ کے چھ نام یاد رہتے تھے، آج بابر کے علاوہ کون یاد ہے۔
ریپڈ فائر راؤنڈ میں وقار یونس نے سچن ٹنڈولکر کو انضمام الحق، وراٹ کوہلی کو بابر اعظم، جسپریت بمراہ کو شاہین آفریدی، عمران خان کو کپل دیو اور ایم ایس دھونی کو جاوید میانداد پر ترجیح دی۔
جاوید میانداد کے بھانجے اور سابق ٹیسٹ بیٹسمین فیصل اقبال نے ایکس پر دھونی کو میانداد پر ترجیح دینے پر تنقید کی اور کہا کہ میانداد نے 21 سال تک ٹیسٹ اور ون ڈے میں پاکستان کی بیٹنگ سنبھالی۔ انہوں نے اس موقف کو افسوسناک قرار دیا اور الزام لگایا کہ وقار یونس بھارتی کمنٹری کے مواقع کے لیے ناکام بابر کی حمایت کر رہے ہیں۔
دوسرے صارفین نے اس دلیل پر طنز کیا۔ اظہر خان نے لکھا کہ وقار یونس کی منطق کے مطابق پاکستان کو ایک بلے باز کی مدد کے لیے دس سپر اسٹارز کی ضرورت ہوگی۔ منصور خان نے لکھا کہ بابر کو مڈل آرڈر کی حمایت نہ ملنا درست ہے مگر یہ جواز نہیں بن سکتا، کیونکہ سلمان علی آغا، حسن نواز اور شاداب خان ان کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہیں۔
کرکٹ تجزیہ کار عمر فاروق کالسن نے وقار یونس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ کے بہترین سفیر رہے ہیں اور اپنے کھلاڑیوں کے بارے میں متوازن مؤقف رکھتے ہیں۔
وقار یونس نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور پاکستان کے میچ باقاعدہ نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ٹیمیں اپنی بہترین کارکردگی نہیں دکھا پاتیں، پاکستان ٹیسٹ کرکٹ بھی مستقل نہیں کھیلتا، اور یہ دو تین چھوٹے مسائل حل ہو جائیں تو کرکٹ بہتر ہو گی۔
سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے بھی بابر اعظم کا دفاع کیا۔ ایکس پر انہوں نے لکھا کہ بابر سپر اسٹار اور پاکستان کے بہترین ون ڈے بلے بازوں میں سے ایک ہیں، اور تقریباً ایک دہائی کی کارکردگی خراب وقت کی وجہ سے فراموش نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فارم اور تکنیک پر سوال اٹھانا جائز ہے مگر ذاتی مقاصد، حسد اور کردار کشی کو کرکٹ تجزیہ کہنا درست نہیں، اور کمزوریوں کے ساتھ بہتری کی تجاویز بھی دی جانی چاہئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان نے انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز جیت لی۔ فائنل میں بابر اعظم پانچ گیندوں پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، جبکہ فخر زمان کی 127 رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان نے تین وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ بی بی سی اردو کے مطابق بابر اعظم نے گزشتہ نومبر میں راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف ون ڈے میں سنچری بنائی تھی، جو دو سال بعد ان کی پہلی بین الاقوامی سنچری تھی۔

بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کر دی، پاکستانی تاجروں کے فنڈز پھنس گئے
منٹ مرر کے مطابق واقعے کے بعد 48 گھنٹے کے لیے ڈپازٹس اور وڈرالز معطل رہے، جس سے پی ٹو پی تاجر یو ایس ڈی ٹی منتقل نہ کر سکے اور فری لانسرز روپے میں تبدیلی کے منتظر رہے۔

کاٹن جنرز فورم: حکومتی اقدامات سے کپاس شعبے کی مایوسی بڑھ گئی
فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بھارت نے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات 31 دسمبر تک بڑھا دی ہیں جبکہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔

احسن اقبال کا شندور-گلگت روڈ سمیت این ایچ اے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
منصوبہ بندی کے وزیر نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے اور ٹھیکیداروں کے مالی دعووں کی جانچ کی ہدایت کی؛ شندور-گلگت روڈ 67.33 فیصد مکمل ہے۔

ہرمز کے قریب پاکستان جانے والا ایل این جی ٹینکر حملے کا نشانہ
نقیلات کا کہنا ہے کہ عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں اور جہاز قابو میں ہے، مگر پاکستان نے یہ نہیں بتایا کہ کارگو ملک پہنچے گا یا اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل گیس خریدی جائے گی۔