معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے عالمی کمپنیاں اسلام آباد میں جمع ہوں گی
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کا انعقاد 12 اور 13 نومبر کو ہوگا، جسے ایس آئی ایف سی کی تائید حاصل ہے اور او جی ڈی سی اس کا بانی پارٹنر ہے۔

پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 کا انعقاد 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا، جس میں عالمی کان کنی کمپنیوں کے سربراہان، سرمایہ کار، پالیسی ساز، مالیاتی ادارے اور تکنیکی ماہرین شرکت کریں گے تاکہ ملک کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ اطلاع ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے دی۔
پروپاکستانی کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس حکومت پاکستان منعقد کر رہی ہے اور اسے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کی تائید حاصل ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اس کا بانی پارٹنر ہے۔ منتظمین کے مطابق فورم گزشتہ برس کے پی ایم آئی ایف 25 کے تسلسل میں ہے اور اس کا مقصد عالمی معدنی سپلائی چین سے پاکستان کے روابط مضبوط کرنا اور تلاش، پروسیسنگ اور پائیدار کان کنی میں سرمایہ کاری راغب کرنا ہے۔
فورم سے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خطاب متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر برائے توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک پہلے روز استقبالیہ خطاب کریں گے، جبکہ فورم کے صدر اور او جی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو احمد حیات لک 13 نومبر کو اختتامی تقریر کریں گے۔
پہلے روز ابتدائی مرحلے کی کان کنی کے لیے مالیاتی انتظامات، کان کنی کے عملے کی تربیت اور اس شعبے میں خواتین کی شرکت پر نشستیں ہوں گی۔ پروپاکستانی کے مطابق شرکا اینٹیمنی کی پیش رفت اور فعال لائسنسوں پر ہونے والی دریافتوں سمیت نئی نسل کے منصوبوں کا جائزہ لیں گے۔ ارضیاتی سروے کے تعاون، ڈیٹا کے تبادلے اور تکنیکی شراکت داری سے متعلق اجلاس کا مقصد تلاش کے خطرات کم کرنا اور معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کو سہارا دینا بتایا گیا۔ ریکو ڈک کے پس منظر میں صلاحیتوں کی ترقی سے متعلق نشست بھی ہوگی، جس کے بعد قومی صلاحیت سازی پروگرام کے پہلے دو بیچوں کے فارغ التحصیل افراد کو اسناد دی جائیں گی۔
دوسرے روز سرمایہ کاروں کے لیے موزوں کان کنی کے دائرہ اختیار پر حکومتی مکالمہ ہوگا، جس میں مختلف ممالک کے وزرا پالیسی اصلاحات، مقامی مواد، ہنرمندی اور طویل مدتی صنعتی ترقی پر بات کریں گے۔ معدنی ویلیو چین سے متعلق اہم اعلانات بھی متوقع ہیں۔ "لائسنس ٹو ڈیلیور" کے عنوان سے ہونے والی نشست ایگزٹ کوریڈورز، آخری مرحلے کی لاجسٹکس، ریل، بجلی، پانی اور سی پیک کنیکٹیوٹی پر مبنی ہوگی جو بڑے پیمانے پر کان کنی کے لیے درکار سہولیات سے متعلق ہے۔
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت شفاف اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول بنانے پر کام کر رہی ہے اور یہ فورم سرمایہ کاروں، صنعت کے سربراہان اور پالیسی سازوں کو طویل مدتی شراکت داری قائم کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ احمد حیات لک نے کہا کہ فورم میں عالمی سطح کی بڑی کمپنیاں شرکت کریں گی۔ پروپاکستانی کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس سے عالمی قائدین کو پاکستان کے معدنی شعبے کی صلاحیت کا اندازہ لگانے اور اس میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔
دو روزہ تقریب میں عالمی کان کنی کمپنیوں، مالیاتی اداروں، انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کمپنیوں، ارضیاتی تنظیموں اور پاکستان کے سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
رپورٹوں میں فرق
پروپاکستانی نے پورا پروگرام تفصیل سے دیا: ایس آئی ایف سی کی تائید، او جی ڈی سی کا بانی پارٹنر ہونا، نشستوں کے عنوانات، ریکو ڈک کا حوالہ اور وزیراعظم، نائب وزیراعظم سے لے کر آرمی چیف تک مقررین کی فہرست۔ اس کی رپورٹ میں وزیر توانائی علی پرویز ملک اور او جی ڈی سی کے احمد حیات لک کے بیانات بھی شامل تھے۔ اے پی پی کی رپورٹ میں تاریخیں، وفاقی حکومت کا منتظم ہونا اور فورم کے مقاصد بیان کیے گئے، مگر مقررین یا نشستوں کا ذکر نہیں تھا۔

حکومت نے کان کنی کے لیے ٹیکس مراعات کا پیکج تیار کر لیا
قومی معدنی پالیسی 2026 کے تحت ووڈ میکینزی کے ماڈل پر تیار کردہ پیکج میں 30 سالہ سیلز ٹیکس چھوٹ اور برآمدی آمدنی پر ایک فیصد پریزمپٹو ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔

ریکو ڈیق کی پیداوار دو سال تاخیر سے 2030 میں شروع ہو سکتی ہے
بیرک مائننگ نے تعمیر کی نئی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا اور کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی بہتر ہونے کے بعد ہی مکمل تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔

حکومت کاروباری ضوابط آسان بنانے پر کام کر رہی ہے، ہارون اختر خان
وزیر صنعت نے کون سے ضوابط ختم ہوں گے اور کب، اس کی تفصیل نہیں دی، جبکہ ایس آئی ایف سی کاروباری برادری سے مشاورت بڑھا رہی ہے اور وزیر توانائی نے سینیٹ میں بجلی ریلیف کی تجویز بتائی۔

شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح کر دیا
ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ وزیراعظم کے مطابق 27 دن میں مکمل ہوا، جس کے ساتھ تقریباً 4 کلومیٹر سڑکیں اور 6 ہزار 340 درخت بھی شامل ہیں۔

پاکستان کا 2030 تک دس لاکھ اے آئی ماہرین تیار کرنے کا ہدف
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان روس آئی ٹی ویبینار میں کہا کہ سات نئے اے آئی مراکز اور سالانہ 75 ہزار آئی ٹی گریجویٹس اس ہدف کی بنیاد ہیں۔

ایف آئی اے، نیب اور سی ڈی اے کے فضل الرحمان کے خاندان اور ساتھیوں کو نوٹس
اسی روز اپوزیشن رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پر ملاقات کی اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر بات کی۔

عمران اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر 10 نومبر کو سماعت ہوگی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کی سربراہی چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کر رہے ہیں، اور وکیل سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ دس ماہ سے بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں ہو سکی۔

اپوزیشن رہنماؤں کی فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ملاقات، کے پی ایمرجنسی پر غور
جمعیت علمائے اسلام کے بیان کے مطابق محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی کے رہنما اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ جمعیت اور ٹی ٹی اے پی کمیٹیاں بنانے پر متفق ہوئے۔