ریکو ڈیق کی پیداوار دو سال تاخیر سے 2030 میں شروع ہو سکتی ہے
بیرک مائننگ نے تعمیر کی نئی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا اور کہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی بہتر ہونے کے بعد ہی مکمل تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔

بلوچستان میں ریکو ڈیق تانبے اور سونے کے منصوبے کی پیداوار دو سال تاخیر سے 2030 تک پہنچ سکتی ہے۔ سرمایہ کار صوبے کی سکیورٹی صورتِ حال اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کا انتظار کر رہے ہیں اور اسی بنیاد پر تعمیر کا مکمل شیڈول طے کر رہے ہیں۔ منٹ مرر نے یہ رپورٹ دی، جبکہ پروپاکستانی نے ڈان کے حوالے سے یہی صورتحال بیان کی۔
کینیڈین کمپنی بیرک مائننگ کے پاس منصوبے میں 50 فیصد حصہ ہے۔ کمپنی نے فروری 2026 میں باقاعدہ جائزہ شروع کیا اور ترقی کے کام میں سستی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی جانچ کی مدت 2027 کے اوائل تک بڑھا دی۔ توقع ہے کہ وہ وسط 2027 تک مکمل تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرے گی، تاہم کمپنی نے ابھی تک تعمیر کی نظرثانی شدہ ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے گزشتہ ماہ مننگ فورم امریکاز میں کہا تھا کہ مکمل تعمیراتی شیڈول پر عمل کے لیے سکیورٹی کی بہتری ضروری ہے۔
رپورٹوں کے مطابق سائٹ پر تقریباً 700 مستقل ملازمین اور 2,000 کنٹریکٹ ملازمین موجود ہیں، تاہم کچھ تھرڈ پارٹی سروس معاہدے ختم ہونے دیے گئے ہیں۔ تحقیق، انتظامی امور اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے منصوبے جاری ہیں۔
تاخیر کے مالی نقصان کے اندازے مختلف ہیں۔ منٹ مرر کو ایک صنعتی ذریعے نے بتایا کہ اضافی اخراجات 8 ارب سے 10 ارب ڈالر تک جا سکتے ہیں، خاص طور پر اگر سکیورٹی کی صورتِ حال مزید بگڑی۔ پروپاکستانی نے یہی تخمینہ اس صورت میں دیا ہے کہ کام ایک سال کے اندر دوبارہ شروع ہو جائے، اور کہا کہ اگر تاخیر دو سال سے بڑھ جائے تو منصوبہ حد سے زیادہ مہنگا ہو سکتا ہے۔ ریکو ڈیق مائننگ کمپنی سے وابستہ ایک اور صنعتی ذریعے نے اضافے کا تخمینہ تقریباً 10 فیصد، یعنی 450 ملین سے 900 ملین ڈالر لگایا۔
اسی ذریعے نے اس منصوبے پر سوال اٹھایا کہ تانبے اور سونے کی پیداوار کا صرف 30 سے 35 فیصد پاکستان میں پروسیس کیا جائے گا، جبکہ باقی ممکنہ طور پر آسٹریلیا کی سہولت بھیج دیا جائے گا۔ پروپاکستانی کے مطابق یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ مقامی کمپنیوں کا ایک کنسورٹیم منصوبے میں اقلیتی حصہ خریدے۔
ملکیت کی تقسیم یہ ہے: بیرک کے پاس 50 فیصد، اور باقی نصف بلوچستان حکومت اور تین سرکاری کمپنیوں، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان برابر تقسیم ہے۔
پہلے مرحلے کی سرمایہ کاری 4 ارب سے بڑھ کر 5.6 ارب ڈالر ہو گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے مزید 3.5 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جس سے کل سرمایہ خرچ تقریباً 9.1 ارب ڈالر ہو جائے گا۔ اوپن پٹ منصوبہ سالانہ 45 ملین ٹن ایسک پروسیس کرے گا، جو دوسرے مرحلے کے بعد بڑھ کر 90 ملین ٹن ہو جائے گا۔ نظرثانی شدہ فزیبلٹی اسٹڈی نے کان کی متوقع عمر 40 سے کم کر کے 37 سال کر دی ہے، اور مزید کھوج اسے 80 سال تک بڑھا سکتی ہے۔
اب تک تقریباً 1 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ اندازے کے مطابق تعمیر کے عروج پر تقریباً 7,500 ملازمتیں پیدا ہوں گی اور کام شروع ہونے پر 4,000 مستقل آسامیاں ہوں گی، جبکہ 37 سال میں 74 ارب ڈالر کی فری کیش فلو متوقع ہے۔
بیرک کے چیئرمین جان ایل تھورنٹن اس ماہ پاکستان آ رہے ہیں اور اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کریں گے۔ منٹ مرر کے مطابق اس دورے سے منصوبے کے مستقبل اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کا موقع ملے گا۔

قلعہ عبداللہ میں فائرنگ، تین ہلاک اور دو اغوا؛ کوئٹہ چمن شاہراہ بند
ورثاء نے لاشوں کو مرکزی سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اغوا شدہ دونوں افراد کی بازیابی پہلی ترجیح ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ میں پانی کی قلت پر حکام طلب کر لیے
عدالت نے شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا، لیکن طلب کیے گئے افسران کے نام اور سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بچوں پر حملے کے بعد دہشت گردوں کو آخری وارننگ دے دی
دونوں رپورٹوں میں حملے کی جگہ، ہلاکتوں کی تعداد یا متاثرین کی عمریں نہیں بتائی گئیں، اور ریڈیو پاکستان نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بھارت کے ملوث ہونے کا دعویٰ کس عہدیدار نے کیا۔

یکم نومبر سے بلوچستان بھر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کا اعلان
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی بلوچستان شاخ نے ایف بی آر اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ناجائز قرار دیے گئے ٹیکسوں کے خلاف صوبے گیر ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔